
دبئی پراپرٹی مارکیٹ سست روی کا شکار، ایران جنگ کے باعث سرمایہ کار محتاط
مشرقِ وسطیٰ میں جاری ایران جنگ کے اثرات اب دبئی کی پراپرٹی مارکیٹ پر بھی نمایاں ہونے لگے ہیں، جہاں سرمایہ کاروں کا اعتماد متاثر ہونے کے باعث خرید و فروخت کی رفتار سست پڑ گئی ہے۔
تازہ رپورٹس کے مطابق، خاص طور پر انٹری لیول ہاؤسنگ سیگمنٹ میں سرگرمی تقریباً 40 فیصد تک کم ہو چکی ہے، جو اس بات کا واضح اشارہ ہے کہ چھوٹے اور درمیانے درجے کے سرمایہ کار اس وقت “انتظار کرو اور دیکھو” کی پالیسی اختیار کیے ہوئے ہیں۔
سرمایہ کاروں کا اعتماد کیوں کم ہوا؟
ماہرین کے مطابق ایران جنگ نے خطے میں غیر یقینی صورتحال کو بڑھا دیا ہے، جس کے باعث:
- غیر ملکی سرمایہ کار نئی سرمایہ کاری مؤخر کر رہے ہیں
- طویل مدتی منصوبوں، خاص طور پر آف پلان پراپرٹیز میں دلچسپی کم ہوئی ہے
- ڈیلز کو فائنل ہونے میں پہلے سے زیادہ وقت لگ رہا ہے
مزید برآں، کچھ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ حقیقی خریداروں کی طلب میں 70 فیصد تک کمی بھی دیکھنے میں آ سکتی ہے، جو آئندہ مہینوں میں مزید واضح ہو گی۔
آف پلان مارکیٹ پر دباؤ
آف پلان پراپرٹیز — جو دبئی میں سرمایہ کاری کا اہم حصہ سمجھی جاتی ہیں — اس وقت سب سے زیادہ متاثر ہو رہی ہیں:
- فروخت کا دورانیہ بڑھ گیا
- خریدار طویل المدتی ادائیگیوں سے گریز کر رہے ہیں
- بعض منصوبوں میں رعایتیں بھی دی جا رہی ہیں
ماہرین کا کہنا ہے کہ غیر یقینی حالات میں سرمایہ کار فوری منافع کے بجائے رسک کم کرنے کو ترجیح دیتے ہیں، جس سے اس سیگمنٹ میں سست روی آتی ہے۔
جنگ کے وسیع معاشی اثرات
ایران جنگ کے باعث نہ صرف دبئی بلکہ عالمی معیشت بھی دباؤ میں ہے:
- تیل کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ
- عالمی مارکیٹس میں غیر یقینی صورتحال
- سرمایہ کاری کے فیصلوں میں تاخیر
اسی تناظر میں دبئی کی فنانشل اتھارٹیز کو بھی کاروباری اداروں کے لیے ریلیف اقدامات متعارف کرانے پڑے ہیں تاکہ معاشی دباؤ کم کیا جا سکے۔
کیا یہ عارضی سست روی ہے؟
دلچسپ بات یہ ہے کہ ماہرین اس صورتحال کو مکمل “بحران” نہیں بلکہ عارضی سست روی قرار دے رہے ہیں:
- قیمتوں میں کمی محدود (تقریباً 4–5٪)
- بنیادی ڈیمانڈ اب بھی موجود
- جنگ ختم ہونے پر تیزی سے بحالی کا امکان
نتیجہ
دبئی پراپرٹی مارکیٹ اس وقت دباؤ کا شکار ضرور ہے، لیکن مکمل بحران سے دور دکھائی دیتی ہے۔ ایران جنگ نے سرمایہ کاروں کو محتاط بنا دیا ہے، جس کے نتیجے میں ڈیلز کی رفتار سست اور مارکیٹ وقتی جمود کا شکار ہے۔
ماہرین کے مطابق اگر خطے میں استحکام بحال ہو جاتا ہے تو یہی مارکیٹ دوبارہ تیزی پکڑ سکتی ہے، تاہم موجودہ حالات میں سرمایہ کار محتاط حکمت عملی اختیار کیے ہوئے ہیں۔