پاکستان

بلڈرز اور ڈیویلپرز کیلئے بڑا ریلیف، حکومت نے ود ہولڈنگ ٹیکس میں چھوٹ دے دی

فیڈرل بورڈ آف ریونیو کے فیصلے سے کنسٹرکشن سیکٹر میں سرمایہ کاری بڑھنے اور نئے منصوبوں کے آغاز کی توقع

حکومتِ پاکستان نے کنسٹرکشن سیکٹر کو فروغ دینے کیلئے ایک اہم قدم اٹھاتے ہوئے بلڈرز اور ڈیویلپرز کو withholding tax میں نمایاں چھوٹ دینے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس اقدام کو رئیل اسٹیٹ مارکیٹ کیلئے بڑا ریلیف قرار دیا جا رہا ہے۔

ذرائع کے مطابق فیڈرل بورڈ آف ریونیو (FBR) کی جانب سے دی گئی اس سہولت کا مقصد تعمیراتی منصوبوں پر ٹیکس کا بوجھ کم کرنا اور سرمایہ کاروں کو دوبارہ اس شعبے کی طرف راغب کرنا ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ اس فیصلے سے نہ صرف کنسٹرکشن لاگت میں کمی آئے گی بلکہ نئے ہاؤسنگ اور کمرشل پراجیکٹس کے آغاز میں بھی تیزی آئے گی۔ گزشتہ کچھ عرصے سے بلند ٹیکسز اور معاشی دباؤ کے باعث یہ شعبہ سست روی کا شکار تھا۔

رئیل اسٹیٹ سے وابستہ افراد کے مطابق withholding tax میں چھوٹ سے بلڈرز کیلئے کیش فلو بہتر ہوگا اور وہ زیادہ اعتماد کے ساتھ نئے منصوبوں میں سرمایہ کاری کر سکیں گے۔ اس کے ساتھ ساتھ چھوٹے اور درمیانے درجے کے ڈیویلپرز کیلئے بھی مارکیٹ میں واپسی کے مواقع پیدا ہوں گے۔

معاشی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر حکومت اس پالیسی کو تسلسل کے ساتھ جاری رکھتی ہے تو کنسٹرکشن سیکٹر میں نمایاں بہتری آ سکتی ہے، جس کے نتیجے میں روزگار کے نئے مواقع پیدا ہوں گے اور معیشت کو بھی سہارا ملے گا۔

تاہم بعض ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ مؤثر نگرانی کے بغیر اس قسم کی ٹیکس چھوٹ سے ریونیو میں کمی اور ممکنہ بے ضابطگیوں کا خطرہ بھی موجود رہتا ہے، جس کیلئے واضح پالیسی اور سخت عملدرآمد ضروری ہوگا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button