
ایران حملوں نے دبئی پراپرٹی مارکیٹ کے “Safe‑Haven” تاثر کو ختم کر دیا، سرمایہ کار اعتماد میں کمی
متحدہ عرب امارات کی پراپرٹی سیکٹر کے سالوں پر محیط بوم کو پہلی بار حقیقی آزمائش کا سامنا، فروخت اور لین دین میں نمایاں کمی
ایران اور امریکہ‑اسرائیل کشیدگی کے دوران ایران کے حملوں نے متحدہ عرب امارات (UAE) کی پراپرٹی مارکیٹ پر منفی اثرات مرتب کیے ہیں، جس سے اس خطے کے سب سے بڑے رئیل اسٹیٹ سیکٹر کے “محفوظ سرمایہ کاری مرکز” کے تاثر میں واضح دراڑیں پڑنے لگیں ہیں۔
روئٹرز کی رپورٹ کے مطابق **ایران کی جانب سے کیے گئے میزائل اور ڈرون حملوں نے خلیج میں UAE کی پراپرٹی بوم کو پہلی بار حقیقی آزمائش میں ڈال دیا ہے، جس سے غیر ملکی سرمایہ کاروں اور مقامی خریداروں کی اعتماد میں کمی آئی ہے۔
تجزیہ کار کہتے ہیں کہ گزشتہ عرصے میں دبئی اور ابوظہبی میں غیر ملکی سرمایہ کاری کی وجہ سے پراپرٹی کی قیمتیں اور خریداروں کی طلب مسلسل بڑھ رہی تھی، مگر حالیہ جیوپولیٹیکل کشیدگی نے اس تاثر کو متاثر کر دیا ہے کہ گلف کی رئیل اسٹیٹ مارکیٹ ایک “Safe‑Haven” ہے۔
پہلے 12 دنوں میں ابھرنے والے اعداد و شمار میں دیکھا گیا ہے کہ پراپرٹی ٹرانزیکشنز میں سال بہ سال 37 فیصد اور ماہ بہ ماہ 49 فیصد تک کمی واقع ہوئی ہے، جبکہ کچھ علاقوں میں ریئل اسٹیٹ ایجنٹس نے قیمتوں میں 12 سے 15 فیصد تک کمی کا بھی رجحان دیکھا ہے۔
ماہرین کے مطابق یہ صورتحال دبئی جیسے عالمی سرمایہ کاری مرکز کی ساکھ پر اثر انداز ہو سکتی ہے، خاص طور پر جب سرمایہ کار خطرات کو نئی آنیوالے مواقع پر ترجیح دیتے ہیں۔ تاہم بعض انڈسٹری لیڈرز کا خیال ہے کہ قلیل مدتی اتار چڑھاؤ کے باوجود طویل مدتی سرمایہ کاری اعتباد برقرار رہ سکتا ہے۔